Search....

Saudi Arabia does not provide free or cheap oil to , Pakistan , Finance Minister Pak

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان معمول کے تجارتی قواعد کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، مسقط اور عمان سے تیل خریدتا ہے اور سعودی عرب سے پاکستان کو تیل نہ مفت اور نہ ہی سستا ملتا ہے اور نہ ہی غیر معمولی تجارتی قواعد کے تحت دیا جاتا ہے بلکہ سعودی عرب سے تیل مارکیٹ ریٹ پر خریدا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے جوہری اور دفاعی پروگرام میں خفیہ سعودی مدد کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملےمیں سعودی عرب کی جانب سے کوئی پوشیدہ مدد نہیں کی گئی، سعودی عرب نے تاریخ میں صرف ایک بار جوہری دھماکوں کے بعد تقریباً 2 ارب ڈالر کا مفت تیل دیا جس کی ہم بڑی قدر کرتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے دوست کے طور پر تحفے میں ڈیڑھ ارب ڈالر دیے جسے ہم بڑی قدر سے دیکھتے ہیں لیکن اس کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے ہمارے جوہری پروگرام اور آپریشن ضرب عضب میں کوئی مدد نہیں کی گئی اس کے لیے پاکستان تمام اخراجات اپنے وسائل سے ہی پورے کررہا ہے۔ یمن سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یمن کے مسئلے پر پاکستان کے خلیجی ممالک سے تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں ، ہمارا یہی موقف ہے کہ اگر سعودی عرب کو براہ راست کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اسے پاکستان پر حملہ سمجھ کر اس میں عملی طور پر شامل ہوں گے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہمارے خلیجی ممالک سے خصوصی تعلقات رہے ہیں اور سعودی عرب سے ہمارا بھائیوں جیسا تعلق ہے، ہم اپنے موقف کے مطابق ان کے نہ صرف ساتھ ہیں بلکہ ان سے بھی ایک قدم آگے جارہے ہیں کیونکہ وزیراعظم نوازشریف واحد رہنما ہیں جنہوں نے حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرنے میں ایران سے کردارادا کرنے کا کہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب سے آنے والے ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے قابل قدر ہیں اس سے ہمیں اپنے تجارتی خسارے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے لیکن ہمیں اس بات کو بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ پاکستانی وہاں اپنی گراں قدر خدمات فراہم کرتے ہیں اور انہیں وہاں مفت میں کچھ نہیں ملتا بلکہ وہاں پاکستانیوں کو دوسرے ممالک کے شہریوں کے مقابلے میں اجرت بھی کم ملتی ہے۔

IT Standing Committee approved the Electronic Crime Bill



قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے الیکٹرانک کرائم بل کی منظوری دیدی
کپمیوٹر پر کئے جانے والے کرائم کی روک تھام کیلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے الیکٹرانک کرائم بل 2015کی منظور ی دیدی جس میں خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سخت سزاؤں کا تعین کیا گیاہے۔چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی صفدر کی زیرصدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس میں انٹرنیٹ کے ذریعےکیے جانے والے کرائم کو روکنے کیلیے الیکٹرانک کرائم بل پیش کیا گیا جو کہ متفقہ طور پر منظور کرلیا گیاہے۔

بل کے متن میں کہاگیاہےکہ حساس اورقومی نوعیت کے ڈیٹا تک رسائی اور اسے چرانے پر 6سال قید اور50لاکھ جرمانہ،ہیکنگ اور کمپیوٹر معلومات تک غیر قانوی رسائی پر 3سال قید اور 10لاکھ جرمانہ اورکسی تصویر کے حصے تبدیل کرکے انٹرنیٹ پر اس کی تشہیر پر 7ساست سال قید 50لاکھ روپے جرمانے کی سزادی جائے گی۔بل میں کہا گیاہے کہ نفرت انگیز لٹریچر و تقاریر کی تشہیر پر پانچ سال قید اور 50لاکھ جرمانہ ،حساس آن لائن نظام میں مداخلت پر 7سال قید اور 50لاکھ جرمانہ،غیر قانونی سموں کی فروخت پر 14سال قید اور 5کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔بل میں مزید کہاگیا کہ پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی اسلامی اقدار ،قومی تشخص ،ملکی سیکیورٹی اور دفاع کے خلاف مواد بند کرنے کی پابند ہو گی۔

Discrimination against Indian Muslims protest Maoist leader TN gambling accepted Islam


بھارتی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ٹی این جوئےکا کہنا ہے کہ کا قبول اسلام بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عصبیت کے خلاف احتجاج کا ان کا اپنا انداز ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت میں وہ اپنا پیدائشی مذہب ترک کر رہے ہیں، وہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کے خواہاں ہیں جس میں کسی فرد کی طرف سے مذہب کی تبدیلی کوئی’’خبر‘‘ نہ ہو، انھوں نے کہا کہ ان کے والد نے ہندو مذہب میں ذات پات کے نظام کے خلاف احتجاج کے طور پر ان کا نام جوئے رکھا تھا۔

اب وہ اس احتجاج کو آگے بڑھا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد تمام ہندوؤں میں فسطائیت کی دم نکل آئی ہے اور مسلمان بھارت میں خوف کی زندگی بسر کرتے ہیں، ٹی این جوئے نے 1970 کے عشرے میں نکسل باغیوں کی تحریک کی قیادت کی تھی، وہ کئی احتجاجی مظاہروں میں شریک رہے اور قید کی سزائیں بھی کاٹیں۔

One of the perfect example of how good teacher can change student




Judicial commission to probe alleged irregularities in the election of the first meeting today




چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی کمیشن عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرے گا، کمیشن میں جسٹس امیر مسلم ہانی اور جسٹس اعجاز افضل بھی شامل ہیں جب کہ کمیشن اس حوالے سے اپنی کارروائی مکمل کرکے 45 روز میں رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گا۔

تحریک انصاف،پیپلزپارٹی، ایم کیوایم، مسلم لیگ (ق)، جماعت اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتیں بھی جوڈیشل کمیشن میں فریق ہیں جب کہ وزیراعظم نوازشریف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے خالد انور کی سربراہی میں قانونی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے شواہد کمیشن میں جمع کرادیئے گئے ہیں جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے جوڈیشل کمیشن میں پیش کرنے کے لیے نادرا سے انگوٹھوں کی تصدیق کی رپورٹ مانگی گئی تھی جسے نادرا نے فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ترجمان تحریک انصاف کے مطابق عمران خان آج جوڈیشل کمیشن میں پیش ہوسکتے ہیں جب کہ ایم کیوایم کی جانب سے بھی عدالتی کمیشن میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ایم کیوایم بعض حلقوں میں دھاندلی پر اپنا موقف پیش کرے گی۔

Find Us On Facebook

Social Networks

 

Live Cricket

Featured Posts

videos

Most Reading