بھارتی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ٹی این جوئےکا کہنا ہے کہ کا قبول اسلام بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عصبیت کے خلاف احتجاج کا ان کا اپنا انداز ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت میں وہ اپنا پیدائشی مذہب ترک کر رہے ہیں، وہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کے خواہاں ہیں جس میں کسی فرد کی طرف سے مذہب کی تبدیلی کوئی’’خبر‘‘ نہ ہو، انھوں نے کہا کہ ان کے والد نے ہندو مذہب میں ذات پات کے نظام کے خلاف احتجاج کے طور پر ان کا نام جوئے رکھا تھا۔
اب وہ اس احتجاج کو آگے بڑھا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد تمام ہندوؤں میں فسطائیت کی دم نکل آئی ہے اور مسلمان بھارت میں خوف کی زندگی بسر کرتے ہیں، ٹی این جوئے نے 1970 کے عشرے میں نکسل باغیوں کی تحریک کی قیادت کی تھی، وہ کئی احتجاجی مظاہروں میں شریک رہے اور قید کی سزائیں بھی کاٹیں۔
