وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ایئر چیف مارشل سہیل امان، قائم مقام سربراہ پاک بحریہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں یمن کی صورت حال اور پاکستانیوں کے انخلا کے لئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا جب کہ خواجہ آصف اور سرتاج عزیز نے اپنے سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔br />
اجلاس میں یمن کی صورتحال پر 6 اپریل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں ارکان کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی اور سعودی عرب کی مدد کی درخواست پر ان کی رائے لی جائے گی۔
اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یمن حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور سعودی عرب کی علاقائی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو خطرے کی صورت میں پاکستان سخت ردعمل کا اظہار کرے گا، صورتحال کے جائزہ کے لئے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے اور تمام فیصلے پاکستانی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔
A high-level meeting chaired by Prime Minister Nawaz Sharif in which Khawaja Asif, Adviser on Foreign Affairs Sartaj Aziz, Assistant Special Tariq Fatmi, Army Chief, Air Chief Marshal Sohail Aman, Acting Chief, Navy and other high officials attended the meeting of Yemen for their business situation and the measures taken reviewed and Aziz He said that his visit to Saudi Arabia gave a detailed briefing. The danger in Saudi Arabia, Pakistan will strongly react, to review the situation in Saudi Arabia remain in constant touch with and all decisions will correspond to the wishes of the people.
Showing posts with label yamen. Show all posts
Showing posts with label yamen. Show all posts
Pakistan Govt Clear Msg About KSA militray intervention in Yamen
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔جمعے کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی بھی فوجی اقدام سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔بخشو سب کا، بخشو کا کوئی نہیںوزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا وعدہ اور عزم صرف سعودی عرب کی حفاظت کے لیے ہے اور اس معاملے میں اپوزیشن کے خدشات بجا لیکن بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں
یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس جنگ میں حصہ لینے کا کوئی فیصلہ یا وعدہ نہیں کیا ہے۔ صرف سعودی عرب کے دفاع کا وعدہ کیا ہے۔ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب کا ضرور دفاع کریں گے اور یہ ہم نے انھیں بتا دیا ہے۔‘پاکستان کسی ایسے تنازع کو ہوا نہیں دینے چاہتا جس کے اثرات مسلم دنیا پر تفرقے کی صورت میں پڑیں۔اس (تفرقہ بازی) کی فالٹ لائنز پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ان میں ہلچل مچانا اور پھر اس کے نتائج بھگتنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا کے متعدد ممالک میں جنگ کا ماحول ہے اور پاکستان کسی ایسے تنازعے کو ہوا نہیں دینے چاہتا جس کے اثرات مسلم دنیا پر تفرقے کی صورت میں پڑیں۔انھوں نے کہا کہ اس (تفرقہ بازی) کی فالٹ لائنز پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ان میں ہلچل مچانا اور پھر اس کے نتائج بھگتنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب اس معاملے پر عرب لیگ کے متوقع اجلاس کے بعد صورت حال دیکھ کر ہی وفد کی روانگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
Labels:
KSA militray intervention,
News,
yamen
whats says Iran Saudi Arabia's Military Intervention in Yemen ?
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے فضائی حملوں سے یمن میں خون ریزی میں اضافہ ہوسکت
ا ہے جس سے پورا خطہ اس کی زد میں آجائے گا۔ سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یمن پر بیرونی قوتوں کی جانب سے حملے اس کی علاقائی سلامتی کے خلاف ہیں اور جس کا نتیجہ سوائے یمن کے لوگوں کے زیادہ خون بہنے کے اور کچھ نہیں نکلے گا جب کہ فضائی حملے یمن میں خون خرابے میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مغرب اور علاقائی قوتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں کسی قسم کے سازشوں سے باز رہیں اور اسے القاعدہ اور داعش کی طرح ڈیل نہ کریں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یمن میں فضائی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فضائی حملے بین الاقوامی قوانین اور یمن کی قومی سلامتی کی خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدام سے خطے میں دہشت گردی اور شدت پسندی میں اضافے اور خون ریزی کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اس لیے فوری طور پر حملوں کو روکا جائے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے طیاروں نے یمن کے دارلحکومت میں حوثی قبائل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 100 کے قریب طیاروں نے حصہ لیا جب کہ اس حملے میں22 افراد ہلاک ہوئے
Labels:
iran,
KSA militray intervention,
News,
yamen
Subscribe to:
Posts (Atom)


