Search....

Showing posts with label weather. Show all posts
Showing posts with label weather. Show all posts

Rays through the introduction of advanced technology to control the weather



سائنسی دنیا میں شعاعوں کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اس کی مدد سے انسانی آپریشن سمیت مختلف تکینیکی کام بھی لیے جاتے ہیں جب کہ اب ان شعاعوں سے ایک ایسا کام لیا جائے جسے سن کر ہی آپ حیرت میں مبتلا ہوسکتے ہیں کیونکہ اب شعاعوں سے موسم کو بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔ سوئٹزرلینڈ کے ماہر طبیعیات جین پیرے وولف نے موسموں کو کنٹرول کرنے کے لیے شعاعوں کا استعمال کر کے بادلوں کو تخلیق دینے کی ٹیکنالوجی کو جدید شکل دے دی ہے اور اس جدید ٹیکنالوجی کو انہوں نے کالا جادو کانام دیا ہے جس کے ذریعے شعاعوں کا استعمال کرتے ہوئے ایسے علاقے جہاں خشک سالی ہو وہاں بادلوں کو ’’کونڈین سیشن‘‘ یعنی عمل تبخیر سے تخلیق کیا جاتا ہے جس میں بھاپ کو ڈراپ لیٹ اور آئس کرسٹل میں تبدیل کیا جاتا ہے جب کہ اسی عمل سے قدرتی بادل بھی وجود میں آتے ہیں۔ اس جدید عمل کے مکمل ہونے کے بعد بارش شروع ہوجاتی ہے اور یوں وہ زمین جو طویل عرصے سے پانی کو ترس رہی ہوتی ہے عارضی اور محدود پیمانے پر اپنی پیاس بجھا پاتی ہے۔ جین کا کہنا ہے کہ اس عمل کو لیبارٹری میں محدود پیمانے پر کیا گیا کیونکہ شعاعیں اتنی طاقتور نہیں ہوتیں کہ اس سے بڑے پیمانے پر بادل بنائے جاسکیں جب کہ اس عمل میں کئی تکینیکی پیچیدگیاں بھی ہیں جو اس راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شعاعیں استعمال کی جارہی ہیں وہ زیادہ طاقتور نہیں کیونکہ اس میں ایک ٹیرا واٹ توانائی موجود ہوتی ہے جو جوہری پلانٹ میں استعمال کی جاتی ہے تاہم یہ زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی۔ جین پیرے وولف نے اس ٹیکنالوجی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان شعاعوں کی مدد سے صرف بادل ہی تخلیق نہیں دیئے جاتے بلکہ ان میں کڑکتی ہوئی ایسی بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے جو زمین پر گرنے کے بجائے صرف بادلوں تک ہی محدود رہے گی۔ جین کے مطابق چند سال قبل میکسیکو کے پہاڑوں پر جا کر شعاعوں کو تجرباتی طور پر فضا میں فائر کیا گیا جس سے بادلوں میں کم طاقت کی کڑکتی بجلی وجود میں آگئی جب کہ اس ٹیکنالوجی سے موسم کو مرمت بھی کیا جاسکتا ہے جیسے طوفانوں، سیلابوں اور خشک سالی کو کنٹرول کیا جا سکے گا اور جہاں جس کی ضرورت ہوگی اس کو بڑھا دیا جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی سے قبل بادلوں کو کیمیکل اسپرے کے ذریعے تشکیل دیا اور کنٹرول کیا جاتا تھا جو انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا تھا جب کہ بیجنگ اولمپلک کی افتتاحی تقریب کے دوران چین نے ایسا راکٹ فضا میں بھیجا جس نے کلاؤڈ سیڈنگ یعنی بادلوں کی تخلیق کے عمل سے بارش کو روک دیا تھا اوربارش برسانے والے بادلوں کو دوسرے مقام کی جانب منتقل کردیا تھا۔

Indeed, destruction, death toll rises to 45, the intermittent rains expected in the twin cities



خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں،ژالہ باری اور طوفان نے تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات سے ہلاک ہونے افراد کی تعداد 45 ہو گئی جبکہ 200سے زائدزخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ مالاکنڈ ڈویژن کی طرف بڑھ رہاہے جبکہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے ۔ 
تفصیلات کے مطابق طوفانی بارشوں سمیت ژالہ باری اور طوفانی بگولے سے پشاور سمیت نواحی علاقوں واحد گڑھی، لیاقت آباد، چارسدہ روڈ، چمکنی، پخہ غلام، بدھوثمرباغ، نوشہرہ، مردان اور دیگر علاقوں میں چھتیں گرگئیں جہاں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ بارشوں کا سلسلہ پیر کو بھی جاری ہے۔
سب سے زیادہ تباہی چارسدہ روڈ، بدھو ثمر باغ، بڈھنی پل، پخہ غلام، واحد گڑھی، لیاقت آباد اور گردو نواح میں ہوئی جہاں بجلی کے دیو قامت کھمبے اور ٹرانسفارمر گرگئے، درخت جڑوں سے ا±کھڑ گئے، کچے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں منہدم ہوگئیں، سائن بورڈز اور بڑے بڑے اشتہاری بورڈ گرگئے، بعض مقامات پر کھمبے اور ٹرانسفارمر گرنے سے گاڑیاں تباہ ہوگئیں ، موٹر وے ٹول پلازہ کے بوتھ تیز ہواو¿ں سے تنکے کی مانند ا±ڑ گئے۔واحد گڑھی میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افرادجاں بحق ہوگئے جن کے جنازے اُٹھنے پر کہرام مچ گیا۔
انتیس افراد کی لاشیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال، 10 چارسدہ اور 5 نوشہرہ ڈی ایچ کیو میں منتقل کی گئیں۔
ایک بیان میں محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پشاور، ہزارہ اورمالاکنڈ ڈویژن میں تیز بارش کا امکان ہے جبکہ جڑواں شہروں میں بھی وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے ۔ 
محکمہ موسمیات کے مطابق پشاورمیں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 59ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، رسالپور میں 39، بالاکوٹ میں 22، سیدو شریف میں 11ملی میٹر، چراٹ میں 19، کالام 17، دیر 15 اور مالم جبہ میں 9ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
صوبائی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مشتاق علی شاہ نے بارش کو ایک چھوٹے طوفان سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ بارش کے دوران 110 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواو¿ں نے تباہی مچائی، طوفان کی رفتار دم توڑ چکی ہے لیکن اگلے تین سے چار گھنٹوں تک شدید بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات ڈائیریکٹر محمد حنیف نے پشاور کی طوفانی بارش کی وجہ جنگلات کا کٹاو¿ اور آلودگی میں اضافہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قوم کو اس طرح مزید صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے پشاور میں آنے والے طوفان کو ملکی تاریخ کا تیسرا بڑا ہوائی بگولہ قرار دیا۔ انہوں نے بتا یا کہ اس طرح کا بگولہ دو سال قبل سیالکوٹ اور نو سال پہلے سرگوھا میں آیا تھا۔محمد حنیف کے مطابق ہوائی بگولوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آب و ہوا تبدیل ہوچکی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کا کٹاو¿ اور تیزی سے بڑھتی فضائی آلودگی ہے۔ا±ن کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کی مزیدصورتحال دیکھنے میں آ سکتی ہے، جس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔

Find Us On Facebook

Social Networks

 

Live Cricket

Featured Posts

videos

Most Reading