Search....

Showing posts with label health news. Show all posts
Showing posts with label health news. Show all posts

Mango which you are unaware that prescription



گرمیوں کی آمد آمد ہے اور پھلوں کے بادشاہ آم کی پیدوار بھی شروع ہوگئی ہے ، آم کے ذائقے اورپھل سے متعلق تو ہم سب واقف ہیں لیکن اس کی مدد سے بنائے نسخوں کی افادیت سے متعلق بیشتر لوگ لاعلم ہیں ۔ گھر میں یہ آسان نسخے بنائیں اور فائدہ اُٹھائیں ۔ 
خون اور منی بڑھانے کا نسخہ
پکے آم کا تازہ رس ایک پاؤ
ستاور کا سفوف پانچ گرام
ثعلب کا سفوف پانچ گرام
تازہ دودھ ایک پاؤ
ادرک کا رس ایک چمچ
دیسی گھی ایک چمچ
ان سب چیزوں کو مکس کر لیں اورروزانہ پینے سے ایک مہینے کے اندراندر خون کی کمی، مردانہ کمزوری اور تولید ی منی کی کمی بھی دور ہوجاتی ہے ۔ 
سن سٹروک.
سخت گرمی بعض اوقات سن سٹروک یعنی لولگنے کے امکانات یقینی ہوتے ہیں جو سخت تکلیف دہ ہوتاہے اور یہی سن سٹرک بعض اوقات موت کا باعث بھی بن سکتاہے ، سن سٹرک سے بچاﺅ کے لیے کچے آم کو آگ پر نرم کر نے کے بعد اس کے پانی میں تھوڑی سی چینی ملائیں اور پی لیں ،کچاآم چونکہ ہرموسم میں دستیاب نہیں ہوتاتو دیرپانسخہ بنانے کیلئے اس کا شربت بنالیں ۔جب کچے آم کی گٹھلی موٹی ہو چکی ہو حسب ضرورت لے کر بھوبھل یا گرم راکھ میں دبا دیں۔ جب آم پک کر پھول جائیں تو نچوڑ لیں، جتنا پانی نکلے اس سے دوگنا چینی ملا کر پکائیں اور شربت بن جائے تو رکھ دیں۔ سن سٹروک کی حالت میں دو دو گھنٹہ بعد پانی میں پلائیں
 مقوی دماغ اور جسم
پکے ہوئے آم کا میٹھا رس ایک پاؤ
 تازہ دودھ آدھ پاﺅ
 ادرک کا تازہ رس ایک چمچ چھوٹی
ان سب چیزوں کو ملالیں اور روزانہ استعمال مفید ہے ۔ 
.ان فوائد کے علاوہ آم دائمی سردرد سے نجات دلانے ، سرکے بوجھل پن ، آنکھوں کے آگے اندھیراآجانے ، سانس پھولنے ، جگرکی کمزوری ، رنگ زرد ہونا وغیرہ کے لیے بھی مفید ہے ۔

انسانی جسم میں ایک ہڈی ایسے ہوتی ہے جو دھماکے اور کیمائی اثر سے بھی محفوظ رہتی ہے دیکھیں اور پڑہیں


Ghee useful for health



گو کہ کچھ سال پہلے تک یہ مانا جاتا تھا کہ گھی کا استعمال کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے مگر حالیہ کئی تحقیقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرانے دیسی گھی جیسی اچھی چکنائی آپ کو تندرست اور توانا رہنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

چاہے آپ اپنی فٹنس کے حوالے پرجوش شخصیت ہوں جو کہ روزانہ ورزش کرتے ہیں یا اپنا وزن کچھ پاؤنڈز کم کرنا چاہتے ہیں، دیسی گھی کی معتدل مقدار میں دونوں چیزوں کا حل موجود ہے۔

دیسی گھی کا طویل المدتی استعمال نہ صرف آپ کے جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے بلکہ یہ پٹھوں کو بھی مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کا شکار افراد کے لیے بھی مؤثر ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دیسی گھی آپ کے جسم میں موجود غیرضروری کولیسٹرول اور چربی (ایل ڈی ایل) جو کو کم کرتا ہے جس سے کھانے کے ہضم ہونے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں تو آپ کو یقیناً یہ کہا گیا ہو گا کہ گھی میں تلی ہوئی اور بنی ہوئی غذائیں آپ کے لیے نقصاندہ ہیں لیکن اب دل کے ماہرین نے بھی اس چیز کو تسلیم کر لیا ہے کہ گھی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کے لیے کافی بہتر ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ گھی میں موجود وٹامن اے نظر سے متعلق بیماریوں کے خلاف مفید ہے جب کہ وٹامن ای جلد کے سیلز کو دوبارہ بننے میں مدد فراہم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ معمولی جل کے بعد متاثرہ جلد پر گھی لگانے کا پرانا دیستی ٹوٹکا خاصا کارآمد ہوتا ہے۔

یاد ہے کہ گھی کی بہت زیادہ نہیں بلکہ متعدل استعمال فائدہ مند ہے۔

نوٹ: اس مضمون کی لکھاری صبا گل حسن ماہر غذائیت ہیں۔

Telling stories for children, which leads to an increase in their mental development, research




امریکا میں سنسناٹی چلڈرن ہاسپٹل میڈیکل سینٹر کے مطابق بچوں کو اسکول بھیجنے سے قبل کہانیاں سنانے سے ان کی دماغی نشوونما پر گہرا اثر پڑتا ہے اور ہم نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا ہے کہ کنڈر گارٹن (کے جی) اسکول سے قبل کہانیاں سنانے سے بچوں میں کہانیوں کو سمجھنے اور اس سے تعلق بنانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اس کے لیے 19 صحت مند بچوں پر ٹیسٹ کیے گئے جن کی عمر 3 سے 5 برس تھی اور ان میں 37 فیصد بچوں کا تعلق کم آمدنی والے خاندان سے تھا۔

پہلے والدین سے معلوم کیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو رات کو کہانیاں سناتے ہیں یا نہیں پھر ان بچوں کے دماغ کے ایم آر آئی اسکین لیے گئے اور ان مقامات کو دیکھا گیا جو پڑھنے اور الفاظ سے معنی اخذ کرنے کا کام کرتے ہیں، جن بچوں کو رات کو ان کے والدین کہانیاں سناتے تھے ان میں پڑھنے اور الفاظ سے معنی نکالنے والے حصے بہت فعال دیکھے گئے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ والدین کے اس عمل سے نہ صرف بچوں میں آگے چل کر پڑھنے کا شعور بڑھے گا بلکہ ان کا ذہن بھی غیر معمولی طور پر فعال ہوگا۔

he world's first malaria vaccine developed for use in Africa



ملیریا سے ہر سال 6 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق افریقا سے ہے، آرٹی ایس ایس نامی یہ ویکسین خصوصی طور پر بچوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور اسے ملیریا کے خلاف پہلی لائسنس یافتہ ویکسین کہا جاسکتا ہے جس پر گزشتہ 30 برس سے کام جاری تھا۔
ویکسین کی طبی آزمائش 2009 میں شروع ہوئی جس میں گبون، برکینا فاسو، گھانا، کینیا، ملاوی، موزمبیق اور تنزانیہ کے 15 ہزار سے زائد بچوں کو یہ ویکسین دی گئی جب کہ ویکسین بچوں کے دو گروپوں پر آزمائی گئی جن میں ایک گروپ کے بچوں کی عمر 6 سے 12 ہفتے تھی جب کہ دوسرے گروپ میں 5 سے 17 ماہ کے بچے شامل تھے، دونوں گروہوں کو 3 ماہ تک ویکسین کی خوراک دی گئی، پہلے گروپ میں کامیابی کا تناسب 27 فیصد تھا جب کہ دوسرے گروپ میں 46 فیصد بچے پولیو سے محفوظ رہے اور ان میں سے بہت سے بچے اگلے چار برس تک بھی ملیریا کے شکار نہ ہوئے۔

ویکسین کو یورپی میڈیسن ایجنسی سے لائسنس ملنے کی صورت میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے رواں سال اکتوبر تک استعمال کی اجازت ملنے کی توقع ہے۔

10 harmful habits for mental health




یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر ذہنی مایوسی ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتی ہے جیسے کسی پیارے کی موت، ملازمت ختم ہوجانا یا مالی مشکلات۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ہمارے چھوٹے چھوٹے انتخاب یا چوائسز بھی ہمارے مزاج پر اندازوں سے زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔

جیسے آپ کی سوشل میڈیا کی عادات، ورزش کا معمول یہاں تک کہ چلنے کا انداز تک آپ کی دماغی صحت پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

تو ایسی ہی چند عادات کے بارے میں جانے جو ذہنی صحت کے لیے مضر ثابت ہوتی ہیں۔

ہر چیز کی تصویر لین

اہماری ذہنی حالت ہمارے چلنے کے انداز پر مرتب ہوتی ہے مگر ایک تحقیق کے مطابق جب لوگ چلنے کے دوران اپنے کندھوں اور کمر کو جھکا لیتے ہیں تو انہیں چڑچڑے پن یا ناخوشگوار مزاج کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس طرح چلنے کے عادی افراد ذہنی طور پر مثبت تجربات کی بجائے منفی چیزوں کو زیادہ یاد رکھتے ہیں جو بتدریج ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور الزائمر امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ورزش نہ کرنا
اپنی زندگی کے ہر لمحے کی تصاویر لینے کی عادت لوگوں کے اندر اہم لمحات کو یاد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ فائرفیلڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہر وقت کیمرے کی آنکھ سے اہم لمحات کو دیکھنے کی عادت یاداشت میں اس منظر کی جزئیات کو سکیڑ کر رکھ دیتی ہے۔ محقق لنڈا ہینکل کے مطابق تصاویر لینے کی عادت یاداشت پر اثر انداز ہوتی ہے اور لوگ اپنی زندگی کے اہم لمحات کی بہت کم باتیں ہی یاد رکھ پاتے ہیں۔ تحقیق کے بقول تصاویر لیتے ہوئے لوگوں کی توجہ صرف ایک خاص چیز یا منظر پر مرکوز ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کی یاداشت زوم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔

ٹال مٹول کی عادت
 اگر آپ ہفتہ بھر میں 3 روز بھی جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہو تو مایوسی کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جسمانی تحریک اور مایوسی کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، آسان الفاظ میں جو لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے ان میں مایوسی کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ورزش یا کسی قسم کی جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد اس ذہنی عارضے سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لیناکسی کام کے دوران آپ اسے کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں جس کی وجہ خوف یا یہ پریشانی ہوتی ہے کہ آپ کو ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے تو اس عادت کو مستقل طور پر اپنا لینے کے نتیجے میں متعدد ذہنی امراض آپ کو اپنا شکار بناسکتے ہیں اور یہ کسی کام میں ناکامی سے زیادہ اعصاب شکن ثابت ہوتی ہے۔

نیند سے دوری

 اگر آپ اپنے روزمرہ کے ہر مسئلے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیتے ہیں تو بہت جلد کسی ماہر نفسیات سے علاج کراتے نظر آئیں گے درحقیقت متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہنسی ذہنی پریشانی و مسائل سے نجات کا سب سے بہترین راستہ ہے۔ درحقیقت ہنسی ذہنی پریشانی اور مایوسی کی سب سے بہترین دوا ہے اور اچھا امر یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کے پیسے بھی خرچ نہیں کرنا پڑتے ہیں۔

کبھی تنہا نہ ہونا

نیند دماغی صحت کے لیے سب سے اہمیت رکھتی ہے، ذہنی اور جذباتی صلاحیتیں اور جسمانی افعال سب نیند کے نتیجے میں دوبارہ تازہ دم ہوجاتے ہیں اور اس کے بغیر ذہنی نظام مسائل کا شکار ہونے لگتا ہے اور ڈیمنیشیا سمیت دیگر امراض جڑ پکڑنے لگتے ہیں جو ہوسکتا ہے کہ دور نوجوانی میں تو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو مگر بڑھاپے کی شاہراہ پر قدم رکھنے کے بعد وہ آپ کو بری طرح دبوچ لیں گے۔

سوشل میڈیا کا بہت زیادہ
 استعمالبچوں، کام، شادی اور دیگر سرگرمیوں کے نتیجے میں آپ کو کبھی تنہا رہنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اپنے لیے کچھ وقت تنہائی میں گزارنا ذہنی تناﺅ میں کمی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اب چاہے وہ ایک منٹ، 10 منٹ یا ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے بغیر آپ جو بھی کام کرتے ہیں مایوسی اور ذہنی تشویش جیسے عوارض آپ کو گرفت میں لیتے چلے جاتے ہیں اور زیادہ سنگین امراض کا باعث بن جاتے ہیں۔

موبائل فون کے بغیر زندگی لگتی ہو مشکلاگر تو آپ کسی سے رابطے کے لیے زبان کی بجائے ایس ایم ایس، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ کرتے ہیں یا ان کو ہی ترجیح دیتے ہیں تو درحقیقت آپ اچھے دوستوں سے ہمیشہ ہی محروم رہیں گے، جبکہ فیس بک وغیرہ کے فرینڈز تفریح کے لیے تو ہوسکتے ہیں مگر ان سے دل کی باتیں نہیں کی جاسکتیں جس سے لوگوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ درحقیقت یہ سائٹس انسانی جذبات اور تجربات کا گلا گھونٹ دیتے ہیں، جس سے لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں اور لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔

بیک وقت کئی کام کرنا یا ملٹی ٹاسکنگ 

 کیا آپ کو یاد ہے کہ آخری بار کونسا دن تھا جب آپ اپنے موبائل سے مکمل طور پر دور رہے تھے؟ کچھ یاد نہیں تو یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق موبائل ڈیوائسز نے انسانوں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے اور ہم انہیں ہمیشہ آن رکھ کر درحقیقت اپنے جسم کو کبھی حقیقی آرام کرنے نہیں دیتے جس کی وجہ سے ہمارے جسم و ذہن ماضی کی طرح توانائی سے بھرپور نہیں رہتے، یہی چیز آگے بڑھ کر مایوسی یا ذہنی پریشانیوں کا گڑھ بن کر رہ جاتی ہے۔

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت کئی کام ایک ساتھ کرلے تاکہ وقت کی بچت ہوسکے بلکہ کئی بار تو نادانستہ طور پر یہ ہم ایسا ہی کررہے ہوتے ہیں جیسے فیس بک پر سرفنگ کے دوران ٹی وی دیکھنا اور موبائل فون پر مسلسل ایس ایم ایس کرنا وغیرہ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ بیک وقت کئی کرنے سے وہ زیادہ بہتر ورکر بن جاتے ہین مگر حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں بلکہ یہ لوگوں کو ذہنی طور پر تناﺅ کا شکار کردیتا ہے جبکہ ہمارے تعلقات بھی ایک وقت میں کئی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں

Benefits of Prayer for scientists agree


 اسلام جہاں مادی طور پر پورا نظام حیات پیش کرتا اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے وہیں انسانی زندگی میں روحانی سکون بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم اسلامی عبادات پر سائنسدان بہت سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں لیکن ملائیشیا میں کی گئی ایک تحقیق نے نماز کے حیران کن فوائد سامنے لا کر سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ یونیورسٹی آف ملائیشیا میں کی گئی ایک تحقیق کے دوران نمازیوں کی حرکات اور ذہن کی حرکات کو نوٹ کیا گیا۔ تحقیق کے نتائج میں پتہ چلا کہ نماز کے دوران اور خصوصاً سجدے کے دورآن دماغ میں ایلفا ویو ایکٹویٹی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ایلفا ویفو کی کثرت دماغ کے پرائٹل ور آکسیپیٹل حصوں میں دیکھی گئی جو کہ دماغ کے بالائی اور عقبی حصوں میں واقع ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بار بار کے تجربات کے دوران یہی صورتحال نظر آئی اور اگرچہ دیگر مراحل کے دوران ایلفا ویوز میں نسبتاً کم اضافہ ہوتا تھا لیکن سجدے کے دوران ان کے سنگلز عورج پر پہنچ جاتے تھے۔ ایلفا ویوز جو کہ انسانی دماغ میں سکون‘ اطمینان اور خوشی کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ یہ روزمرہ زندگی کی مشکلات اور تکلیفوں کے شکار دماغ کو پرسکون کرنے اور انسانی توجہ اور صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی و ذہنی مسائل کے حل کے لیے مہنگے اور منفی نتائج کے حامل علاج سے کہیں بہتر اور آسان نسخہ نماز ہے۔ تجربے کے نتائج اس قدر شاندار اور حیران کن تھے کہ اس تحقیق کو فوری طور پر بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسی جریدے اپلائڈ سائیکالوجی میں شائع کرنے کی درخواست کر دی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب کے متعدد جرائد نے بھی اس تحقیق کے بارے میں مضامین شائع کئے ہیں اور اعتراف کیا ہے کہ اس بات کے سائنسی شواہد مل گئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت دماغ میں ایلفا ویو ایکٹیویٹی کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔

Find Us On Facebook

Social Networks

 

Live Cricket

Featured Posts

videos

Most Reading