Search....

High winds, rain forecast, imposed in Sindh, Lahore were alert

محکمہ موسمیات نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں میں تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے امکان ہے ، سندھ میں رین ایمرجنسی نافذ جبکہ لاہور میں تمام ٹاوٴنز کو الرٹ کردیا گیا ۔محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے امکان ظاہر کیا۔کراچی میں چار سے پانچ گھنٹے تک تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے 

جس کے باعث حدنگاہ بھی کم ہو سکتی ہے ۔ موسم کا حال بتانے والوں نے کہاہے مالاکنڈ ، ہزارہ ، پشاور ، مردان ، راولپنڈی ڈویڑن ، اسلام آباد ، کشمیر ، گلگت بلتستان میں کہیں کہیں جبکہ گوجرانوالہ ، لاہور ڈویژن میں چند مقامات پر تیز ہواوٴں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے ، ملک کے دیگر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور اِس کے گردونواح میں تیزہواوٴں کے باعث ہرطرف گرد و غبار چھا گیا ، مختلف علاقوں میں ہلکی بارش بھی ہوئی ، گردوغبار کے باعث حد نظر بڑی حد تک کم ہوگئی ، صورت حال کی پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تمام ٹاوٴنز میں الرٹ کر دیا گیا۔ آزاد کشمیر میں بارشوں کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہونے کے ساتھ دریاوٴں میں بھی پانی کی سطح بلند نے لگی ۔آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں چکار، چناری راولاکوٹ اور چکوٹھی میں بارشوں کے بعد سردی ایک مرتبہ پھر لوٹ آئی۔

War is not a conflict between institutions, Justice Nasir-ul-Mulk

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان کوئی جنگ ہے نہ ٹکراؤ، دیکھ رہے ہیں کہ آئینی ترامیم کے تحت کسی آرٹیکل کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17رکنی فل بینچ نے 18ویں و21ویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سماعت میں لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان کے دلائل پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے کسی کو انکار نہیں عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ سے علیحدگی آئین کا اہم نکتہ ہے، اگر پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کا حصہ بنا دیا جائے تو پھر آپ کو قبول ہوگا کیا اس صورت میں اختیارات کی تقسیم متاثر نہیں ہوگی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین میں ایسی ترامیم کیوں نہیں لاتے جو ہمارے حالات کے مطابق ہو، چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ججز پارلیمانی کمیٹی عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے 

خلاف ہے، یہ بھی بتایا جائے کہ ججز تقرری پارلیمانی کمیٹی آئین کی کس شق کے خلاف ہے۔ ہر ملک میں ججز کی تقرری کا طریقہ کار مختلف ہے ترمیم ہوگی تو مقدمات بھی عدالتوں میں آئیں گے۔ دیکھ رہے ہیں کہ ترمیم کے تحت کسی آرٹیکل کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی ہمارا دوسرے ممالک کی عدالتوں سے متاثر ہونا ضروری نہیں۔ حامد خان کے بعد بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے 18ویں ترمیم میں عبوری حکم دیا جس کی وجہ سے پارلیمنٹ نے 19ویں ترمیم منظور کی جس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالت نے 19 ویں ترمیم جبراً منظور کرائی، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ عبوری حکومت میں پارلیمنٹ کو ہدایت نہیں تجویز دی تھی، بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے باعث اداروں میں جنگ ہوئی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اداروں میں کوئی جنگ ہے نہ ٹکراؤ۔ کیس کی مزید سماعت کل ہوگی۔

Rays through the introduction of advanced technology to control the weather



سائنسی دنیا میں شعاعوں کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اس کی مدد سے انسانی آپریشن سمیت مختلف تکینیکی کام بھی لیے جاتے ہیں جب کہ اب ان شعاعوں سے ایک ایسا کام لیا جائے جسے سن کر ہی آپ حیرت میں مبتلا ہوسکتے ہیں کیونکہ اب شعاعوں سے موسم کو بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔ سوئٹزرلینڈ کے ماہر طبیعیات جین پیرے وولف نے موسموں کو کنٹرول کرنے کے لیے شعاعوں کا استعمال کر کے بادلوں کو تخلیق دینے کی ٹیکنالوجی کو جدید شکل دے دی ہے اور اس جدید ٹیکنالوجی کو انہوں نے کالا جادو کانام دیا ہے جس کے ذریعے شعاعوں کا استعمال کرتے ہوئے ایسے علاقے جہاں خشک سالی ہو وہاں بادلوں کو ’’کونڈین سیشن‘‘ یعنی عمل تبخیر سے تخلیق کیا جاتا ہے جس میں بھاپ کو ڈراپ لیٹ اور آئس کرسٹل میں تبدیل کیا جاتا ہے جب کہ اسی عمل سے قدرتی بادل بھی وجود میں آتے ہیں۔ اس جدید عمل کے مکمل ہونے کے بعد بارش شروع ہوجاتی ہے اور یوں وہ زمین جو طویل عرصے سے پانی کو ترس رہی ہوتی ہے عارضی اور محدود پیمانے پر اپنی پیاس بجھا پاتی ہے۔ جین کا کہنا ہے کہ اس عمل کو لیبارٹری میں محدود پیمانے پر کیا گیا کیونکہ شعاعیں اتنی طاقتور نہیں ہوتیں کہ اس سے بڑے پیمانے پر بادل بنائے جاسکیں جب کہ اس عمل میں کئی تکینیکی پیچیدگیاں بھی ہیں جو اس راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شعاعیں استعمال کی جارہی ہیں وہ زیادہ طاقتور نہیں کیونکہ اس میں ایک ٹیرا واٹ توانائی موجود ہوتی ہے جو جوہری پلانٹ میں استعمال کی جاتی ہے تاہم یہ زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی۔ جین پیرے وولف نے اس ٹیکنالوجی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان شعاعوں کی مدد سے صرف بادل ہی تخلیق نہیں دیئے جاتے بلکہ ان میں کڑکتی ہوئی ایسی بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے جو زمین پر گرنے کے بجائے صرف بادلوں تک ہی محدود رہے گی۔ جین کے مطابق چند سال قبل میکسیکو کے پہاڑوں پر جا کر شعاعوں کو تجرباتی طور پر فضا میں فائر کیا گیا جس سے بادلوں میں کم طاقت کی کڑکتی بجلی وجود میں آگئی جب کہ اس ٹیکنالوجی سے موسم کو مرمت بھی کیا جاسکتا ہے جیسے طوفانوں، سیلابوں اور خشک سالی کو کنٹرول کیا جا سکے گا اور جہاں جس کی ضرورت ہوگی اس کو بڑھا دیا جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی سے قبل بادلوں کو کیمیکل اسپرے کے ذریعے تشکیل دیا اور کنٹرول کیا جاتا تھا جو انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا تھا جب کہ بیجنگ اولمپلک کی افتتاحی تقریب کے دوران چین نے ایسا راکٹ فضا میں بھیجا جس نے کلاؤڈ سیڈنگ یعنی بادلوں کی تخلیق کے عمل سے بارش کو روک دیا تھا اوربارش برسانے والے بادلوں کو دوسرے مقام کی جانب منتقل کردیا تھا۔

Cemetery of cars, old cars in the world where there are precious



حال ہی میں جرمن فوٹو گرافر ڈیٹر کلین نے امریکہ کی مختلف ریاستوں میں سفر کرتے ہوئے گاڑیوں کے ’یارڈز‘ کی تصاویر دنیا کو دکھائی ہیں۔گاڑیوں کے ان قبرستانوں میں کئی گاڑیاں اس قدر نایاب ہیں کہ اگر انہیں نکال کر ٹھیک کرنے کے بعد فروخت کیا جائے تو آپ کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔
ڈیٹر کلین نے اپنے سفر کو تصاویر کی شکل میں Forest Punkنامی کتاب سے شائع کیا ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ وہ اوکلوہاما،ٹیکساس،نیو میکسیکو،ایری زونا،کنساس،کولوریڈو اور میسوری کی ریاستوں میں گیا ہے اوروہاں اسے نے ’یارڈز‘ میں ایسی قیمتی گاڑیاں دیکھیں کہ وہ دنگ رہ گیااور انہیں ’بیش قیمت خزانے‘کا نام دیا۔ان گاڑیوں میں JaguarsاورCitroenکے ٹرک شامل ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو اس نے بغیر کسی تبدیلی کے شائع کیا ہے اور لوگ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ گاڑیاں کس قدر قیمتی ہو سکتی ہیں۔

Wonderful family lived off the floating fortress



ہم سب کی خواہش ہے کہ اس دنیا کی گہما گہمی سے دور کسی پرسکون جگہ پر زندگی گزاریں لیکن کبھی ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔ایک کینیڈین جوڑے نے اس خواب کو حقیقت بناتے ہوئے کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ساحلی شہر ٹوفینو کے پاس سمندر کے بیچوں بیچ ایک قلعہ تعمیر کیا ہے۔وائن ایڈمز اور کیتھرین کنگ کاتیرتا ہوا یہ قلعہ 12پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے جس میں گھر،گرین ہاﺅس اور رہنے کے لئے کھلی جگہ ہے۔تیرنے والا قلعہ کینیڈین جوڑے نے 1992میں تعمیر کیا تھا اور وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔
یہ تمام پلیٹ فارم آپس میں اس مہارت سے جوڑے گئے ہیں کہ ایک سے دوسرے پر جانے میں بالکل بھی دقت نہیں ہوتی۔سردیوں کے دنوں میں وہ پینے کے لئے بارش کا پانی اکٹھا کرتے ہیں اور گرمیوں میں وہ پینے کا پانی نزدیکی آبشاروں سے لاتے ہیں۔انہوں نے اس قلعہ میں گرین ہاﺅسز بنا رکھے ہیں جس کی وجہ سے کھانے پینے کے لئے سبزیاں اور پھل حاصل کرتے ہیں جبکہ بجلی کے لئے انہوں نے سولر پینل اور فوٹو وولیٹیک جنریٹر رکھے ہوئے ہیں۔اس قلعہ پر ایک لائیٹ ہاﺅس بھی ہے۔انہوں نے مرغیاں پالنے کے لئے بھی ایک حصہ مخصوص کررکھا تھا لیکن انہیں خدشہ ہے کہ کوئی سمندری بلا ان مرغیوں کو کھانے کے لئے حملہ ہی نہ کردے۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں 20سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور اس دوران انہوں نے قلعہ میں کئی طرح کی تبدیلیاں کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس قلعہ پر انہیں سب سے زیادہ مسئلہ 30پاﺅنڈ وزنی چوہوں سے ہوتا ہے جو انہیں مسلسل تنگ کرتے رہتے ہیں لیکن وہ پھر بھی اپنے جزیرے نما قلعہ کو خوبصورت بنانے میں لگے رہتے ہیں۔
اگر کوئی اس جزیرے نما قلعہ کو دیکھنے کے لئے کینیڈین جوڑے کے پاس آنا چاہتا ہے تو وہ اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور ساتھ ہی اس کو بنانے اور چلانے کے طریقے بھی بتاتے ہیں۔

Find Us On Facebook

Social Networks

 

Live Cricket

Featured Posts

videos

Most Reading