مگر اس مقدمے کا مدعا علیہ جو سامنے آیا وہ ایگزیکٹ کمپنی نہیں بلکہ سلیم قریشی نامی ایک پاکستانی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ ویب سائٹس اپنے اپارٹمنٹس سے چلاتا تھا۔ 3 سال سے زیادہ ہونے والی مقدمے کی اس سماعت میں سلیم قریشی صرف ایک ویڈیو بیان کے ذریعے نظروں کے سامنے آیا جس میں وہ کراچی کے ایک کمرے میں انتہائی کم روشنی میں موجود تھا۔ سلیم قریشی نے اپنی صفائی میں کیس لڑنے والے امریکی وکلا کو 4 لاکھ ڈالر فیس ادا کی جسے دبئی کے مختلف کرنسی ایکسچینج سٹورز کے ذریعے بھجوایا گیا۔ حال ہی میں ایک رپورٹر اس کا کراچی کا دیا گیا پتہ ڈھونڈنے میں ناکام ہوا۔
سلیم قریشی نے ایگزیکٹ کمپنی سے اپنے کسی بھی تعلق سے یکسر انکارکیا حالانکہ بیلفرڈ ہائی اسکول اوربیلفرڈ یونیورسٹی کے زیراستعمال میل باکسوں میں ایگزیکٹ ہیڈ کوارٹر کے پتے کو ’’فارورڈنگ ایڈریس‘‘ کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ 2012 میں ختم ہوا جب جج نے سلیم قریشی اور بیلفرڈ کو 22 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ تاہم کسی بھی مدعی کو کچھ بھی رقم موصول نہیں ہوئی۔ مضمون نگاری کے بزنس میں ایگزیکٹ کی مقابل کمپنی ’’اسٹوڈنٹ نیٹ ورک ریورسز‘‘ نے جب ایگزیکٹ کو دھوکہ دہی پر مبنی ویب سائٹ قرار دیا تو ایگزیکٹ نے اس پر 2009 میں مقدمہ کردیا مگراس کمپنی نے مقدمے کا جواب مقدمے سے دیا جس میں ایگزیکٹ کو 7 لاکھ ڈالر ہرجانے کا حکم دیا گیا مگر کمپنی کے وکیل کے مطابق یہ رقم ہنوز ملنا باقی ہے۔
Showing posts with label fined. Show all posts
Showing posts with label fined. Show all posts
Subscribe to:
Posts (Atom)
